آن لائن خریداری کے بڑھتے ہوئے رجحان میں صارفین اب صرف کم قیمت اور تیز ڈیلیوری نہیں چاہتے بلکہ ایک ایسا تجربہ چاہتے ہیں جو انہیں سمجھ سکے، رہنمائی کرے اور ان کی ضرورت کے مطابق خود فیصلے بھی کر سکے۔ گوگل نے اس بدلتی ہوئی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی شاپنگ سروسز میں مصنوعی ذہانت کی ایک نئی نسل شامل کی ہے، جس کا مقصد تلاش سے لے کر خریداری کے مکمل عمل تک ہر مرحلے کو آسان، ذاتی اور سمارٹ بنانا ہے۔ یہ اپڈیٹس جمعرات ۱۳ نومبر کو لانچ کی گئی ہیں۔

گوگل کا نیا “مکالماتی سرچ” سسٹم اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ اب صارفین قدرتی انداز میں کوئی بھی سوال پوچھ سکیں گے اور سرچ انجن محض لنکس دکھانے کے بجائے چیٹ باٹ جیسی گفتگو کے ذریعے مکمل رہنمائی فراہم کرے گا۔ صارف اگر پوچھے کہ 50 ہزار کے اندر بہترین فون کون سا ہے یا سردیوں میں کون سے کپڑے بہتر ہیں، تو AI تصویروں، ریویوز، قیمتوں اور اسٹاک کی تازہ ترین معلومات کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار رہے گی۔ یہ تجربہ کسی ماہر سیلز پرسن سے بات کرنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
اسی کے ساتھ گوگل نے اپنی Gemini ایپ کو بھی شاپنگ اسسٹنٹ میں بدل دیا ہے۔ صارف اب صرف سوال نہیں پوچھے گا بلکہ خریداری کے آئیڈیاز، تحائف کے مشورے، بجٹ کے اندر بہترین آپشنز اور گھر کی سجاوٹ کے خیالات بھی AI سے حاصل کر سکے گا۔ یہ ٹول سرچ سے بڑھ کر ایک ایسا معاون بننے کی کوشش کر رہا ہے جو صارف کی پسند اور ضرورت کو سمجھ کر اسے بہتر فیصلے کروائے۔
سب سے اہم تبدیلی “Agentic Checkout” ہے، جو خودکار خریداری کے مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ فرض کریں آپ کسی جیکٹ کی قیمت کم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ گوگل کی AI قیمت پر نظر رکھے گی، ڈسکاؤنٹ آتے ہی آپ کو اطلاع دے گی اور آپ کی منظوری کے بعد خود ہی خریداری مکمل کر دے گی۔ اس تکنیک کے ذریعے آئندہ چند برسوں میں صارفین کے لیے سیلز اور ڈسکاؤنٹس کا فائدہ اٹھانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔

گوگل نے ایک اور حیران کن فیچر بھی متعارف کرایا ہے — ایک ایسا AI ایجنٹ جو صارف کی جانب سے مقامی دکانوں کو کال کرے گا، پروڈکٹ کی دستیابی، قیمت اور ممکنہ پروموشنز کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا، اور بعد میں اس کی مختصر رپورٹ ارسال کرے گا۔ گویا خریدار کے پاس اب ایک ایسا ورچوئل اسسٹنٹ موجود ہوگا جو وقت ضائع کیے بغیر ضروری معلومات خود جمع کر کے دے سکتا ہے۔
گوگل کے مطابق، ان تمام اقدامات کا مقصد آن لائن خریداری کے پورے ماڈل کو انسان دوست اور مؤثر بنانا ہے۔ جہاں صارفین کو بہتر رہنمائی، وقت کی بچت اور سستی قیمتوں کے امکانات بڑھ جائیں گے، وہیں کاروباری اداروں کو زیادہ مستند خریدار اور بہتر کنورژن ریٹس ملنے کی امید ہے۔ گوگل کا یہ قدم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مستقبل میں خریداری محض سرچ اور کلک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک مسلسل مکالمے، تجزیے اور ذاتی معاونت پر مبنی تجربہ بن جائے گی۔ گوگل کی ایڈز اور کامرس کی نائب صدر اور جنرل منیجر وِدھیا سرینواسن نے جمعرات کو لانچ سے قبل ایک پریس بریفنگ میں وضاحت کرتے ہوئی یہ بات بتائی۔
دنیا تیزی سے AI-powered Commerce کی طرف بڑھ رہی ہے، اور گوگل اس تبدیلی کے مرکز میں کھڑا ہے — ایسا مستقبل جہاں خریداری کے ہر مرحلے کو انسانی قابلیت جیسی مصنوعی ذہانت سمجھتی اور نمٹاتی ہے۔
