سعودی عرب کئی دہائیوں سے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔لیکن تیل کی عالمی طلب میں کمی، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں/گرین انرجی کے بڑھتے رجحان نے تیل پر انحصار کو خطرناک بنا دیا ہے۔
اسی لیے سعودی Vision 2030 کا مقصد تیل کے بعد کی معیشت تیار کرنا ہے بالکل ویسے ہی جیسے:
- UAE نے دبئی کو کاروبار و سیاحت کا مرکز بنایا
- سنگاپور نے تجارت و فنانس پر توجہ دی
- قطر نے ایوی ایشن اور میڈیا پر سرمایہ کاری کی
اب سعودی عرب کا اگلا قدم ہے AI، ڈیٹا، اور ہائی ٹیک انفراسٹرکچر۔

مملکت کا سرکاری سرمایہ کاری فنڈ (PIF) نئی کمپنی «ہیومین» (Humain) قائم کر رہا ہے، جو مئی 2025 میں لانچ ہوئی، اور اس کا مقصد AI کا پورا انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔ ڈیٹا سینٹر، کلاؤڈ سروسز، AI ماڈلز اور خاص طور پر عربی زبان کے لیے بڑے لسانی ماڈل (LLM)۔ہیومین کا ہدف ہے کہ 2030 تک عالمی AI ورک لوڈز کا تقریباً 7فیصد حصہ اُس کے زیرِ عمل ہو، اور اس مقصد کے لیے یہ متعدد بڑی چپ ساز کمپنیوں اور ٹیکنالوجی فرموں کے ساتھ معاہدے کر رہا ہے۔
اہم شراکتداریوں میں Nvidia کی طرف سے تقریباً 18,000 جدید AI چپس کی فراہمی شامل ہے، جو سعودی عرب کے بڑے ڈیٹا سینٹر کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔یہ اقدام سعودی عرب کے وسیع تر اقتصادی تبدیلی کے منصوبے “ویژن 2030” کا حصہ ہے، جس میں ملک اپنی معیشت کو تیل پر کم انحصار والا اور ٹیکنالوجی و ڈیٹا کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔
دنیا میں اس وقت تین بڑے AI کیمپ ہیں: امریکہ، چین اور یورپ ۔ سعودی عرب اس دوڑ میں "نیا لیکن انتہائی طاقتور کھلاڑی” بن کر داخل ہو رہا ہے، کیونکہ مملکت میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت ہے، سیاسی و صنعتی وژن ایک سمت میں ہے اور عرب دنیا کا ڈیجیٹل خلا تقریباً خالی ہے۔ اگر سعودی کامیاب ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ چین یا امریکہ جیسی AI سپر پاور بن سکتا ہے۔
