نوے کی دہائی کا سری لنکا آج کے سری لنکا سے بہت مختلف تھا۔ اُس وقت تامل ٹائیگرز اور سری لنکن حکومت کے درمیان جھڑپیں روز کا معمول تھا گور حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے ’باغیوں‘ کو ٹارگٹ کرتی تھی۔
ایسے میں سنہ 1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی سری لنکن حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھی۔ سال کے آغاز میں ہی سری لنکا سے خونریزی کی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے وہاں میچز کھیلنے سے انکار کر دیا۔
چونکہ اس ورلڈ کپ میں تینوں میزبان ممالک اپنے راؤنڈ میچز اپنی سرزمین پر کھیل رہے تھے، اس لیے منتظمین نے بھی سری لنکا کو واک اوور دینے کا فیصلہ کیا، اس سے انھیں چار قیمتی پوائنٹس تو مل گئے لیکن ان کے عوام مایوس اور کھلاڑی پریکٹس سے محروم ہو گئے۔
ایسے میں پاکستان اور انڈیا کے سٹار کھلاڑیوں پر مشتمل کمبائنڈ الیون نے نہ صرف سری لنکا جا کر ایک نمائشی میچ کھیلا بلکہ عوام کے دل بھی جیت لیے، اس میچ میں کمبائنڈ الیون کی قیادت محمد اظہرالدین نے کی جبکہ سری لنکن الیون ارجنا راناٹنگا کی قیادت میں اتری۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے میزبان ٹیم نے 40 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے، جس میں اسانکا گوروسنہا کے 34 اور کپتان راناٹنگا کے 32 رنز شامل تھے۔
جواب میں کمبائنڈ الیون نے سچن ٹنڈولکر کے 36 اور کپتان اظہراالدین کے 32 رنز کی بدولت 35ویں اوور میں ہی میچ چار وکٹوں سے اپنے نام کر لیا۔
پاکستان کے نامور ڈبلیوز وسیم اکرم اور وقار یونس کی موجودگی کے باوجود لیگ سپنر انیل کمبلے چار وکٹیں لینے میں نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ مین آف دی میچ بھی قرار پائے۔

